اردوئے معلیٰ

 

یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا

میرا جہانِ فکر و نظر جگمگا گیا

 

خلقِ عظیم و اسوہ ء کامل حضور کا

آدابِ زیست سارے جہاں کو سکھا گیا

 

اس کے قدم سے پھوٹ پڑا چشمہ ء بہار

وہ دشتِ زندگی کو گلستاں بنا گیا

 

انوارِ حق سے جس نے بھرا دامنِ حیات

جو نکہتِ وفا سے زمانے بسا گیا

 

کتنا بڑا کرم ہے کہ تائب سا بے ہنر

توصیفِ مصطفی کے لیے چن لیا گیا

 

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات