یوں لگی مجھ کو خنک تاب سحر کی تنویر

یوں لگی مجھ کو خنک تاب سحر کی تنویر

جیسے جبریل نے میرے لئے پر کھولے ہیں

ہے ردا پوشی مری دنیا دکھاوے کے لئے

ورنہ خلوت میں بدلنے کو کئی چولے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گل و بلبل کے افسانے کہاں تک
خطا کاروں کا تُو ستار بھی ہے
مجھے بحرِ غم سے اُچھال دے
صدائے کن فکاں پرتو خدا کا
خدا توفیق دے حمد و ثناء کی
تو خبیر ہے تو علیم ہے
خدا سُنتا ہماری التجا ہے
خدا کی فکر میری زندگی ہے
خدایا اِک ترا مسکین بندہ
خدا فریاد سُنتا ہے ہماری

اشتہارات