یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا

جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

 

اہلِ دل سے یہ ترا ترکِ تعلق یعنی

وقت سے پہلے اسیروں کا رہا ہو جانا

 

یوں اگر ہو تو جہاں میں کوئی کافر نہ رہے

معجزہ ہے ترے وعدے کا وفا ہو جانا

 

زندگی! میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے

تو مرے دوست کا نقشِ کفِ پا ہو جانا

 

آ گئی راس اگر مجھ کو اس آنچل کی ہوا

تو خفا مجھ سے نہ اے بادِ صبا ہو جانا

 

اے جہاں ہم کو عداوت سے نہیں ہے فرصت

پھر کبھی دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا

 

یہ بھی تیرے قد و قامت سے چھپایا نہ گیا

اِک ستارے سے ترا ماہ لقا ہو جانا

 

جانے یہ کون سی کیفیت غمخواری ہے

میرے پیتے ہی قتیلؔ اس کو نشہ ہو جانا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خواھش ھی نہیں کوئی کہ مجھ سے رھیں سب خُوش
مجھے غرض ھے ستارے نہ ماھتاب کے ساتھ
کہیں عید ،ہولی ،دِوالی ،محبت
جدائیوں کے زمانے کب تک؟ نجانے کب تک
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
گرچہ مہنگا ہے مذہب ، خدا مُفت ہے
جاہ و حشم نہ لعل و جواہر کی بات ہے
اک کرب ِ لا دوا ہے کہ جاں چھوڑتا نہیں
راکھ ہوتے ہوئے ہاتھوں کی جلن ایک طرف
تھک ہار کے دم توڑ دیا راہ گذر نے