اردوئے معلیٰ

یوں ہی شعلے کو ہوا دیتا جا

یوں ہی شعلے کو ہوا دیتا جا

اپنے ہونے کا پتہ دیتا جا

 

بے رُخی یوں نہ برت کام کے بعد

کچھ نہیں ہے تو دعا دیتا جا

 

چوٹ دینے میں بھی کچھ لگتا ہے

تو بھی کچھ نامِ خدا دیتا جا

 

سنگریزوں کا بھی حق ہے تجھ پر

خون ، اے آبلہ پا دیتا جا

 

سربلندی تو مری فطرت ہے

سر جھکاتا ہوں سزا دیتا جا

 

پھول ہاتھ آئیں تو رکھ دامن میں

اور کانٹوں کو قبا دیتا جا

 

کوئی دروازہ تو وا ہو گا ہی

سوچ لے اور صدا دیتا جا

 

سارے خط میں تجھے لوٹا دوں گا

تو مجھے خواب مرا دیتا جا

 

تلخ لہجہ ہے غزل کی خوشبو

شعر کو رنگ نیا دیتا جا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ