اردوئے معلیٰ

Search

یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے

ہر اک موج بلا کی راہ میں حائل مدینہ ہے

 

مدینے کے مسافر تجھ پہ میرے جان و دل قربان

تیری آنکھیں بتاتی ہیں تیری منزل مدینہ ہے

 

زمانہ دھوپ ہے اور چھاؤں ہے بس اک بستی میں

یہ دنیا جل کے بجھ جاتی مگر شامل مدینہ ہے

 

جہاں عشاق بستے ہوں وہ بستی ان کی بستی ہے

جہاں پہ ذکر ہو ان کا وہی محفل مدینہ ہے

 

شرف مجھ کو بھی حاصل ہے محمد کی غلامی کا

میں اتنی دور ہوں لیکن مجھے حاصل مدینہ ہے

 

کرم کتنا ہے فخری ان کی ذات پاک کا مجھ پر

وہ میرے دل میں رہتے ہیں میرا بھی دل مدینہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ