یہ مُجھ پہ کرم اُنؐ کا ہے، یہ اُنؐ کی عطا ہے

یہ مُجھ پہ کرم اُنؐ کا ہے، یہ اُنؐ کی عطا ہے

بن مانگے ہی خیرات سے کشکول بھرا ہے

 

بُت خانے بہت، جھوٹے خُداؤں کی تھی بھرمار

محبوبِ خُداؐ نے یہ کہا ’ایک خُدا ہے

 

سرکارؐ کے صدیق ہیں، صدیقؓ و عمرؓ بھی

عثمانِ غنیؓ اور علیؓ شیرِ خُدا ہے

 

برسائیے پھر ابرِ کرم، اے شہِ بطحاؐ

مسموم ہوئی پھر سے زمانوں کی فضا ہے

 

فرعونِ زماں پھر سے گرہیں ڈال رہے ہیں

قرآن کی تعلیم ہی بس عُقدہ کشا ہے

 

یاد آئی بہت پھر سے نواسۂ نبیؐ کی

نمناک ہے پھر آنکھ تو پھر زخم ہرا ہے

 

ہر آن ظفرؔ بھرتی ہیں یاں جھولیاں سب کی

سرکارؐ کا در ہے، یہ درِ جُود و سخا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حاصل ہوا جو فیض رسول انام کا
کمتر تھا جذب و شوق، کرم بیشتر رہا
جو روشن حلیمہ کا گھر دیکھتے ہیں
نعت پیکر باندھتی ہے اذن کی تاثیر سے
دہر پر نور ہے ، ظلمات نے منہ موڑ لیا
نعتِ پیغمبرؐ لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں
نہ رنج یاد رہے ، سب ملال بھول گئے
سرتاجِ انبیاء ہو شفاعت مدار ہو
خواہشِ دید! کبھی حیطۂ ادراک میں آ
کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے

اشتہارات