الفت محمد کا میرے دل میں ڈیرا ہے

الفت محمد کا میرے دل میں ڈیرا ہے

شہر شاہ طیبہ ہے یا کہ دل یہ میرا ہے

 

ان کی دلربائی کا ذکر کیا کروں تم سے

میرے دل کی دنیا میں ان کا ہی بسیرا ہے

 

وصف نور احمد کا کس طرح بیاں ہو گا

بزم کن فکاں میں اس نور سے سویرا ہے

 

خوشبوئیں بھی جنت کی ہیچ ہو گئیں اب تو

جب سے میرے آقا نے زلفوں کو بکھیرا ہے

 

فرض ہو گئی اب تو چاند کو زیارت بھی

ان کے روئے زیبا نے نور یوں بکھیرا ہے

 

دور ہو گئی مجھ سے فکر دونوں عالم کی

کہہ دیا ہے آقا نے آج سے تو میرا ہے

 

روضے پہ سلامی کو دیکھ لے ذرا واعظ

انس و جن ملائک کا ان کے در پہ پھیرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ