اور کہاں کو جائیں یا رب

اور کہاں کو جائیں یا رب

تیرے ہی در آئیں یا رب

 

کیوں نہ تیرے نغمے گائیں

تیرا ہی تو کھائیں یارب

 

کُن سے قائم کردی دنیا

قرباں تیرے جائیں یارب

 

اوپر نیچے تو ہی تو ہے

ہر سو، دائیں بائیں یا رب

 

تیری چاہت تک نہ پہنچیں

مل کے ستر مائیں یا رب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
تجھی سے التجا ہے میرے اللہ
ہوتا ہے ترے نام سے آغاز مرا دن​
خدا کا خوف جس دل میں سمائے
خُدا کی یاد سے معمُور دل ہے
سمندر، کوہ و بن، ارض و سما ہیں
خداوندا کرم کا ابر برسا
خدا سایہ کُناں ہے بندگی میں
جہاں سارے بنائے ہیں خدا نے