اردوئے معلیٰ

اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں

اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں

جب بھی میں ان کی نعت کہتا ہوں

 

تذکرے کو ترے عبادت میں

پیروی کو نجات کہتا ہوں

 

اُن سے پہلے کا جو زمانہ تھا

میں اُسے کالی رات کہتا ہوں

 

یہ حقیقت ہے اسمِ احمد کو

میں حلِ مشکلات کہتا ہوں

 

جو دیارِ نبی میں آئے اُس

موت کو بھی حیات کہتا ہوں

 

یہ جو ہم تیرے اُمتی ہیں اِسے

تیرا احسانِ ذات کہتا ہوں

 

تیری چاہت کو میں حبیبِ خدا

حاصلِ کائنات کہتا ہوں

 

مرتضیٰؔ اپنی نعت گوئی کو

آپ کا التفات کہتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ