اردوئے معلیٰ

Search

اپنی بخشش کیلئے رو کے الگ بات کروں

کیوں نہ سرکار سے میں ہو کے الگ بات کروں

 

گنبدِ سبز کو آنکھوں سے جو کچھ کہنا ہو

بہتے اشکوں سے نظر دھو کے الگ بات کروں

 

بات تو کر لوں مگر پھر یہ خیال آتا ہے

کوئی صدّیق ہوں میں جو کے الگ بات کروں

 

سوچتا ہوں کہ خدو خالِ غمِ عقبٰی سے

ارضِ دل میں ترا غم بو کے الگ بات کروں

 

وہ بھی دن آئے کہ میں آپ سے اے فخرِ جہاں

دنیا والوں سے پرے ، سو کے الگ بات کروں

 

نعت کہتا رہوں ، یہ وقت نہ آئے آقا

تیرے قدموں کے نشاں کھو کے الگ بات کروں

 

وادئ خوابِ تبسم میں مرے مرکزِ دل

اپنی تصویر اتارو کہ الگ بات کروں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ