اکثر آتے جاتے حاصل ایک سعادت ہوجاتی ہے

اکثر آتے جاتے حاصل ایک سعادت ہوجاتی ہے

اس کی آنکھیں پڑھ لیتے ہیں اور عبادت ہوجاتی ہے

 

ہم ملتے تھے چاند ، ہوا ، بادل اور جھیل نے دیکھا ہوگا

چار گواہ اکٹھے ہوں مقبول شہادت ہو جاتی ہے

 

دکھ بھی بچے جن سکتے ہیں میرے چاروں جانب دیکھو

ہر شب میرے کمرے میں آہوں کی ولادت ہو جاتی ہے

 

پھولوں کا گلدستہ بھیجا ہے جو تم نے بیماری میں

چھے پھولوں اور چھے پتوں سے یار عیادت ہوجاتی ہے ؟؟

 

جن سے گہرا رشتہ کومل جب وہ اپنا رستہ بدلیں

پہلے تھوڑا دکھ ہوتا ہے بعد میں عادت ہوجاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں
خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں
تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو