اردوئے معلیٰ

بلند میرے نبی سے ہے بس خدا کا مقام

خدا کے بعد جہاں میں ہے مصطفےٰ کا مقام

 

نہ آ سکے گا کبھی حیطۂ خیال میں وہ

گمانِ خلق سے ارفع ہے مصطفےٰ کا مقام

 

حضورِ حق میں وہ ہوتی نہیں ہے رد ہر گز

درود پاک سے بڑھتا ہے یوں دعا کا مقام

 

فلک نشین فرشتے حیا کریں ان سے

بلند اتنا ہے عثمان کی حیا کا مقام

 

حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے دیکھو

اسی میں رکھا گیا ابنِ مرتضیٰ کا مقام

 

ہے انبیا و رسل کا مقام بھی ارفع

مگر جو شاہ نے پایا ہے وہ دنٰی کا مقام

 

شہان وقت بھی آتے ہیں یاں گدا بن کر

ہے دو جہان میں اونچا ترے گدا کا مقام

 

کھڑے ہوں صف میں جہاں مقتدی نبی سارے

خدا ہی جانتا ہے ایسے مقتدا کا مقام

 

درِ رسول سے جس کو ملی رضا کی سند

جلیل اس کے مقدر میں ہے رضا کا مقام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ