اردوئے معلیٰ

Search

بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر

شرم آنکھ میں پائی نہ گئی تل کے برابر

 

دشمن کوئی اے یار مرا اور ترا دوست

ہوگا نہ زمانے میں مرے دل کے برابر

 

دل متصل کوچۂ محبوب ہوا گم

لٹنا تھا پہنچ کر مجھے منزل کے برابر

 

کم بختیٔ واعظ ہے کہ ہو وعظ کی صحبت

رندان قدح نوش کی محفل کے برابر

 

ہم پی گئے جو اشک قریب مژہ آیا

کشتی ہوئی جب غرق تو ساحل کے برابر

 

آہوں کے شرر گرد نہیں داغ جگر کے

تابندہ ہیں اختر مہ کامل کے برابر

 

پردہ نہ اٹھا قیس نے لیلیٰ کو نہ دیکھا

جھونکا بھی نہ آیا کوئی محمل کے برابر

 

مقتل میں یہ حسرت رہی اے ضعف پس ذبح

پہنچے نہ تڑپ کر کسی بسمل کے برابر

 

گھر تک در جاناں سے جلالؔ آئیے کیوں کر

ایک ایک قدم ہے کئی منزل کے برابر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ