تجھ سے ہے بہار جانِ عالم

اے چارہء بے کسانِ عالم

تو اصلِ بنائے خلق ٹھہرا

تو عز و وقار و شانِ عالم

سدرہ ترے خادموں کا مسکن

اے خواجہ ءِ خواجگانِ عالم

مہکی نہ تھی بوئے خلق جب تک

ویران تھا گلستانِ عالم

جب تک ترے ذکر سے تہی تھا

بے رنگ تھی داستانِ عالم

تارے ترے ہمرکاب آئے

اے صاحبِ کاروانِ عالم

قطرے ترے فیض سے سمندر

اے منعم و مہربانِ عالم

ذرے ترا نام لے کے اٹھے

اور بن کے گے کہکشانِ عالم

اک تیری نظر سے ہو گئے ہیں

بے نام و نشاں ، نشانِ عالم

در پر ترے آ کے جھک گئے ہیں

کیا کیا سر سر کشانِ عالم

بھٹکے گا شعور مدتوں تک

معراج ہے امتحانِ عالم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]