اردوئے معلیٰ

ترے حضور یہ سوغات لکھ کے لایا ہوں

 

ترے حضور یہ سوغات لکھ کے لایا ہوں

میں بے ہنر یہ مناجات لکھ کے لایا ہوں

 

اگرچہ مدح کے شایاں ملا نہ حرف کوئی

وفورِ شوق میں جذبات لکھ کے لایا ہوں

 

سخن کا مرکز و محور تری ہی ذات رہی

ترا ہی نام تری بات لکھ کے لایا ہوں

 

کریم آپ کی مرضی پہ ہے قبولِ سخن

میں ٹوٹے پھوٹے یہ کلمات لکھ کے لایا ہوں

 

جو درد سینے میں طیبہ سے دور رہ کے تھا

وہ سارے ہجر کے حالات لکھ کے لایا ہوں

 

’’فرشتو پوچھتے ہو مجھ سے کس کی امت ہو‘‘

پڑھو تو کس کے میں نغمات لکھ کے لایا ہوں

 

سکھائے جو بھی تھے ماں باپ نے حروفِ ثنا

وہ سارے توشہ  لمعات لکھ کے لایا ہوں

 

گدا مدینے کا کہہ کر پکاریں منظرؔ کو

بہ طرزِ نعت یہ حاجات لکھ کے لایا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ