تصورات کے جنگل سے راستہ نکلے

تصورات کے جنگل سے راستہ نکلے

کبھی مدار سے باہر بھی بھیڑیا نکلے

 

ترا بھلا ہو کہ تیری وضاحتوں کے سبب

مری شکست کے پہلو ہزارہا نکلے

 

تھی ایک عمر میں خواہش کہ کھل سکے کوئی

پر اب کے خوف ہے لاحق کہ کون کیا نکلے

 

کبھی زمین پہ جم کر کھڑے بھی ہو پائیں

چبھا ہوا ہے جو کانٹا جنون کا ، نکلے

 

جہانِ ترکِ تمنا کے راہ گم کردہ

ستم ظریف تمہاری گلی میں جا نکلے

 

ہزار بار جو پردہ الٹ سکے کوئی

ہزار بار ہی منظر کوئی نیا نکلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ