تو کریم ہے تو صبور ہے تو غفور ہے

تو کریم ہے تو صبور ہے تو غفور ہے

مجھے معصیت پہ عبور ہے تو غفور ہے

 

میں ہوں عیب کار سیاہ رو، تو بڑا غنی

مرا ہر قدم پہ قصور ہے تو غفور ہے

 

میں ہوں معترف مرا جرم ہے مجھے بخش دے

تو حسیبِ یومِ نشور ہے تو غفور ہے

 

مجھے امتی کیا اپنے خاص حبیب کا

مجھے اس کرم پہ غرور ہے تو غفور ہے

 

میں سیاہ کار ہوں بے عمل بڑا نا سمجھ

مجھے صرف اتنا شعور ہے تو غفور ہے

 

مری ساری عمر گزر گئی تو خبر ہوئی

تیری بندگی میں سرور ہے تو غفور ہے

 

ہوئے مطمئن مرے قلب و جاں ترے ذکر سے

ترا ذکر جامِ طہور ہے تو غفور ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
الہیٰ ! جب سے تجھ سے رابطہ ہے
ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں
خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا
خدایا میں نحیف و ناتواں کمزور انساں ہوں
سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
کہوں حمدِ خدا میں کس زباں سے
ترے انوار دیکھوں یا خُدا مجھ کو نظر دے
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے