اردوئے معلیٰ

Search

تھام کر صبر کی مہار حسین

ہوئے دشت بلا سے پار حسین

 

تجھ کو زیبا ہے تاج ذبح عظیم

اے شہیدوں کے تاجدار حسین

 

دے کے ناحق کو یادگار شکست

کر گئے حق کو آشکار حسین

 

تیری گلکاریوں کے صدقے میں

گلشن دیں میں ہے بہار حسین

 

جس کو دنیائے عشق کہتے ہیں

تم ہوئے اس کے شہسوار حسین

 

آسماں آتشیں قبا اوڑھے

تیرے غم میں ہے سوگوار، حسین!

 

یہ سمندر یہ آبجو یہ سحاب

تشنگی پر تری نثار حسین

 

شوکت و سطوت و عروج سبھی

ہیں تری راہ کا غبار، حسین!

 

امتحاں سامنے نہ ہوتا تو

تھا بہت تیرا شیر خوار حسین

 

ختم صحرائے غم نہیں ہوتا

تو لگادے ہمیں بھی پار حسین

 

میرے اہل و عیال، مال و منال

تجھ پہ سو جان سے نثار حسین

 

ہر مصیبت کو ٹال دیتی ہے

یاد بن کر تری حصار، حسین

 

مغفرت کی سند صدف پائے

چوم آئے ترا مزار، حسین

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ