اردوئے معلیٰ

Search

جو تیرے کوچہ میں بستر لگائے بیٹھے ہیں

وہ ہاتھ دونوں جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیں

 

فقیر ہیں تیرے، محتاج یک نگاہِ کرم

لٹے لٹائے تیرے در پر آئے بیٹھے ہیں

 

زمین کوئے محمد کی دل کشی دیکھو

کہ بادشاہ بھی کمبل بچھائے بیٹھے ہیں

 

اٹھائے حشر بھی آکر تو اٹھ نہیں سکتے

جو آستاں پہ تمہارے بٹھائے بیٹھے ہیں

 

سجا ہے داغ محبت سے دل کا ویرانہ

ہم اس خرابہ کو جنت بنائے بیٹھے ہیں

 

خدنگِ ناز تڑپ کر نکل نہ آئے کہیں

ترے فدائی کلیجہ دبائے بیٹھے ہیں

 

لگی ہے بھیڑ درِ مصطفیٰ پہ اے سیماب

یہ سارے لوگ فلک کے ستائے بیٹھے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ