اردوئے معلیٰ

Search

 

جہاں کی خاک کا ہر ذرہ اک نگینہ ہے

مری نگاہ میں بس ایک وہ مدینہ ہے

 

نظر ہے اُس پہ محمد کی، غم نہیں کوئی

مری حیات کا لہروں پہ جو سفینہ ہے

 

خدا سے ربط کا منشور جس میں آیا ہے

جہاں کاحسن وہ رمضان کا مہینہ ہے

 

نبی کا فیض ہے، گرہیں وجود میں روشن

دل و دماغ کشادہ، جو میرا سینہ ہے

 

مرے نبی کی بدولت، کرم خدا کا ہے

جو اس جہاں میں جینے کا اک قرینہ ہے

 

میں جانتا ہوں یہ بخشالویؔ کہ جنت کا

نبی سے عشق ہی واحد ہمارا زینہ ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ