حبیبِ کبریا میرے محمدؐ

حبیبِ کبریا میرے محمدؐ

خدا تک رہنما میرے محمدؐ

وہ ہم دردِ غریباں و امیراں

کہیں شاہ و گدا میرے محمدؐ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میں
نعت کا فیض عام کرتے ہیں
آپؐ جیسا حسیں نہیں کوئی
آپؐ ہی خیر البشرؐ ہیں آپؐ ہی نُورمبیں
خدا کی کبریائی ہے جہاں تک
میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر
اشرفی نسبتی جو ہوا خیر سے
’’وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے‘‘
’’اے سحابِ کرم اک بوٗند کرم کی پڑ جائے‘‘