خط بنام دختر ( ۲)

جان سے پیاری
السلام علیکم
اب کے خط لکھنے میں تاخیر ہو گئی ۔ سردیوں کی آمد آمد ہے اور تم تو جانتی ہو اس موسم کے آغاز کے ساتھ ہی متعدد بیماریاں مجھے گھیر لیتی ہیں ۔ لیکن یقین مانو دل ہمہ وقت تم میں ہی اٹکا رہتا ہے ۔
میری بچی مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ہر شخص زندگی میں جو بھی سیکھتا ہے اپنے تجربات سے سیکھتا ہے ۔ اپنے ہی تجربے سے سیکھ کر چیزوں کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے ۔
دوسروں کی نصیحت ہمیں اکثر ناگوار گزرتی ہے ۔ پیاری بیٹی میرے اور تمھارے رشتے میں میں نصیحت کے بوجھ کو شامل نہیں کرنا چاہتی ۔
بس ان خطوط کے ذریعے تم سے اپنے دل کی بات کہہ دیتی ہوں ۔ اور تمھاری کہی سن لیتی ہوں ۔جیسے دو سکھی سہیلیاں آپس میں بیٹھ کر کہہ سن لیا کرتی ہیں ۔
پچھلے خط میں تم سے ” فلاح ” کا تذکرہ کیا تھا ۔ میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ اللہ ہم سے بار بار فلاح کی بات کیوں کرتے ہیں ۔ اور آخر انسان کی فلاح ہے کیا ۔
دنیا کے چلن کو دیکھا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ انسان جس نے اچھا کمایا اچھا پہنا اوڑھا اچھا کھایا بہتر گھر گاڑی زندگی کی سہولیات سے مزین ہوا دنیا نے اسے کامیاب انسان کے لقب سے نوازا ۔
لیکن ایسی کامیابی بھی مجھے بے چینی میں مبتلا کر دیتی۔ زندگی گزارنے کے لیے ان تمام لوازمات کا ہونا ازحد ضروری ہے ۔ لیکن کیا یہی لوازمات فلاح کا بھی باعث ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : خط بنام سہیلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر متجسس بچے کے اندر سوالات کے جوار بھاٹا اٹھتے ہیں ۔ میں بھی متجسس رہی ۔ بالکل ایسی ہی جیسی اب تم ہو ۔
سوالات کرتی اپنی گول آنکھوں کو تم جب مزید گول گول گھماتی تو مجھے اپنا بچپن یاد آکے رہ جاتا ۔
ایک دن لغت میں فلاح کے معنی مل گئے۔
فلاح کسان کو کہتے ہیں۔
کیسی عجیب بات تھی کہ کامیابی کی مثال کسان کو مدنظر رکھ کر دی جا رہی تھی ۔
کسان کی زندگی پہ غور کیا تو جیسےالگ ہی دنیا وا ہو گئی ۔
زندگی کو با مقصد اور با معنی بنانے کے لیے ہمیں کسان کے فلسفہ حیات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
کسان زمین کو پانی لگا کر نرم کرتا ہے ۔ پھر زمین کی گوڈی کر کے اس میں بیج بوتا ہے ۔
” بیج ” جو زمین کے اندر چھپ جاتا ہے ۔ کسان آس اور امید کو قائم رکھتا ہے کہ اس زمین کے اندر سے ضرور بالضرور کونپل پھوٹے گی ۔ ہم انسان ذرا دیر اندھیرے میں آجائیں یا ذرا سی دیر کو بھی کسی شے کی حقیقت ہم سے چھپی رہے تو ہم ہزار گمان کر ڈالتے ہیں ۔ اور اپنے کئے گئے گمانوں سے ہی مایوس ہونے لگتے ہیں ۔ لیکن کسان ہمیشہ بیج بونے کے بعد اللہ کی رحمت سے پر امید رہتا ہے ۔
اور ایک دن اس بیج سے کونپل پھوٹ نکلتی ہے ۔ ننھا پودا فصل بننے تک جن مراحل سے گزرتا ہے ان تمام مرحلوں میں کسان کی ہمت عزم اور محنت ہر لمحہ شامل رہتی ہے ۔
اوراس تمام مشقت کےبعد فصل کی صورت اسے اپنی محنت کا صلہ مل جاتا ہے جو اسے خوشی اور آسودگی سے نہال کر دیتا ہے۔
تو میری بچی جان لو کہ فلاح وہ کامیابی ہے جوکڑی محنت اور سخت مشقت کےبعدملتی ہے ۔ لیکن جب مل جاتی ہے تو انسان کو مطمئن ‘ آسودہ اور خوشحال کر دیتی ہے ۔
فلاح کے معنی تو جان لیے تھے اب یہ سمجھنا باقی تھا کہ فلاح پا لینے والے کون لوگ ہیں۔
جس دن انکو جان لیا مانو ایک طلسم ہوشربا کھل گئی تھی۔ زندگی رہی تو کبھی تمھیں ضرور بتاؤنگی کہ فلاح پا لینے والے کون ہیں۔
ابھی کے لیے تو فقط یہ جان لو کہ جو کامیابی پلیٹ میں رکھ کر مل جائے اسے کافی مت جاننا۔
یاد رکھنا کہ جس شے کے حصول کے لیے تم نے اپنا خون پسینہ بہایا ہوگا اس شے کا مل جانا نہ صرف الوہی خوشی سے ہمکنار کرتا بلکہ طمانیت ‘ اپنی ذات پہ اعتماد اور محنت کی عظمت سے آگاہ بھی کرتا ہے ۔
اپنا خیال رکھنا ۔ خالہ اور بڑے ماموں کو سلام کہنا
والسلام
تمھاری والدہ
۵ نومبر ۲۰۱۹
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سفر (حصہ دوم)
راول کا پنڈ ' راولپنڈی
چرواہا
چودہ اکتوبر کے نام
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
بیٹی کے نام خط (۱ )
جو سوئے دار سے نکلے
پکارا ہم نے جو " اُن " کو
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

اشتہارات