دفن جو صدیوں تلے ہے وہ خزانہ دے دے

دفن جو صدیوں تلے ہے وہ خزانہ دے دے

ایک لمحے کو مجھے اپنا زمانہ دے دے

 

چھاپ دے اپنے خدوخال مری آنکھوں پر

پھر رہائش کے لئے آئینہ خانہ دے دے

 

اور کچھ تجھ سے نہیں مانگتا میرے آقا

نا رسائی کو زیارت کا بہانہ دے دے

 

موت جب آئے مجھے کاش ترے شہر میں آئے

خاکِ بطحا سے بھی کہہ دے کہ ٹھکانہ دے دے

 

زندگی جنگ کا میدان نظر آتی ہے

میری ہر سانس کو آہنگِ ترانہ دے دے

 

اپنے ہاتھوں ہی پریشان ہے اُمت تیری

اس کے الجھے ہوئے حالات کو شانہ دے دے

 

اپنے ماضی سے مظفر کو ندامت تو نہ ہو

اس کے اِمروز کو فردائے یگانہ دے دے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ