اردوئے معلیٰ

Search

 

دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو

پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو

 

آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے

کب وہ چاہیں گے میری حشر میں رسوائی ہو

 

آستانہ پہ ترے سر ہو اجل آئی ہو

اور اے جان جہاں تو بھی تماشائی ہو

 

اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

 

کبھی ایسا نہ ہوا اُن کے کرم کے صدقے

ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو

 

یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نا بنے

ایسے یکتا کے لئے ایسی ہی یکتائی ہو

 

اس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحت

خاک طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو

 

بند جب خواب اجل سے ہوں حسن کی آنکھیں

اس کی نظروں میں تیرا جلوہ زیبائی ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ