دُعا ہے میں سعادت ایسی پاؤں

دُعا ہے میں سعادت ایسی پاؤں

اُصولِ نعت گوئی سیکھ جاؤں

 

روایت سے ذرا ہٹ کر لکھوں پھر

میں نعتیں شاہِ بطحا کو سناؤں

 

مدینے کے چَمن سے گل چُنوں میں

پھر ان کو دِل کے آنگن میں لگاؤں

 

دُرودِ پاک پڑھنا ہے عبادت

اِسی میں زندگی اپنی بِتاؤں

 

اگر جو وقت آئے اُن کی خاطر

یہ دِل کیا جان بھی اپنی لُٹاؤں

 

مدینے سے چلے آئیں محمد

کبھی وہ نعت کی محفل سجاؤں

 

قریبِ جان ہیں بے شک رضاؔ جو

کبھی تو آنکھ سے میں دیکھ پاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

اشتہارات