سراج الدین خان آرزو


دہلی میں اردو غزل سے تخلیقی دلچسپی کا آغاز دیوانِ ولی کے اثر سے ہوا۔ میر اور سودا سے پہلے جن شعرا کو خصوصیت کے ساتھ نام وری ملی اور جنھوں نے اردو غزل کے خد و خال کو سنوارا اور نکھارا، ان میں سراج الدین خان آرزو کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
سراج الدین خان آرزو کا اصل نام شیخ سراج الدین علی تھا۔ استعداد خان ان کا خطاب اور تخلص آرزو تھا۔ 1687 ٕ میں آگرہ کے شہر اکبرآباد میں پیدا ہوۓ ۔ 1756 ٕ میں لکھنؤ میں رحلت فرمائی اور دہلی میں مدفون ہوئے۔
سراج الدین علی خان آرزو ، ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ فارسی کے ایک نامور شاعر ، عالم ، نقاد، ماہرِ لسانیات ، محقق اور لغت نویس بھی تھے۔ انھیں فارسی ، اردو اور سنسکرت کے علاوہ پنجابی، برج بھاشا ، ہریانی اور اودھی زبانوں پربھی دسترس حاصل تھی۔ خان آرزو کو تاریخ گوئی اور علمِ عروض میں بھی کمال حاصل تھا۔انھی خصوصیات کی بناء پر خان آرزو کو اردو ادب میں ایک خاص مقام و اہمیت حاصل ہے۔
محمد حسین آزاد اپنی کتاب ”آبِ حیات میں رقم طراز ہیں ۔” خان آرزو کو زبانِ اردو میں وہی دعویٰ پہنچتا ہے جو ارسطو کو فلسفہ اور منطق پر ہے۔ جب تک کُل منطقی ارسطو کے عیال کہلائیں گے تب تک اہلِ اردو خان آرزو کے عیال کہلاتے رہیں گے“۔
خان آرزو کی اصل پہچان ان کے فارسی کلام کی وجہ سے اس حد تک تھی کہ انھیں سراج الشعرا اور معراج المحققین کے القابات سے نوازا گیامگر آج ان کی شہرت ان کے گہرے لسانی شعور کی وجہ سے ہٕے جس کا ثبوت فارسی میں ان کی تصنیف ” سراج اللغت اور ریختہ میں نوادراللفاظ ہے۔ خان آرزو بنیادی طور پر ااردو کے شاعر نہیں تھے کیوں کہ اس زمانے میں اردو میں شعر گوئی کو کمالِ فن نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جمیل جالبی نے تاریخِ اردو ادب جلد اول میں آرزو کےاشعار کی تعداد ستائیس بتائی ہے ان کے بقول شاعری کی یہ تعداد ہرگز ایسی نہیں کہ جن کی بنا ٕ پر خان آرزو کو اردو ادب میں کوئی مقام دیا جاۓ لیکن انھوں نے اس دور کے ایک بااثر علی و ادبی شخصیت کی حیثیت سے ایسے گہرے اثرات مرتب کیے کہ ریختہ نے فارسی کی جگہ لے لی ۔انھوں نے اُس دور کے نوجوان شعرا ٕ کی تربیت کی اور انھیں ریختہ گوئی کی راہ سجھائی بقول آزاد :
”خان آرزو وہی شخص ہیں جن کے دامنِ تربیت سےایسے ایسے شائستہ فرزند پرورش پا کر اٹھے جو زبانِ اردو کے اصلاح دینے والے کہلائے اور جس شاعری کی بنیاد جگت اور ذو معانی لفظوں پر تھی اسے کھینچ کر فارسی کی طرز پر لے آئے “۔
سودا ، میر اور درد نے خان آرزو سے فیض پایا۔ ان کے علاوہ مضمون ، یک رنگ ،انند رام مخلص اور ٹیک چند بہار بھی ان کے تلامذہ میں شمار کیے جاتے ہیں ۔خان آرزو نے شاہ مبارک آبرو کو خود اپنا شاگرد بنایا۔ میر نے نے خان آرزو کو اوستاد و پیر ومرشدِ ہند کہا ہے۔ آرزو نے جہاں نئی نسل کے شاعروں میں ایک ایسا اعتماد پیدا کر دیا کہ وہ ریختہ گوئی پر فخر کرنے لگے وہیں ریختہ کی ترویج کے لیے ہر ماہ کی پندرہ تاریخ کو اپنے گھر پر ایک مشاعرہ ”مراختے“ کےنام سے منعقد کرتے تھے۔
خان آرزو ایک ایسے پر آشوب دور میں پیدا ہوئے تھے جب مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا۔ محمد شاہ کی تخت نشینی کےبعد17 19 ٕ میں دہلی آگئے اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے اس زمانے میں وہ پورے بر عظیم میں مشہور ہو چکےتھے۔جب دہلی کے حالات ابتر ہونے لگے تو شہر چھوڑ کر لکھنؤ چلے آۓ اور یہیں پر 1756 ٕ میں وفات پا گئے۔
خان آرزو نے اپنی تمام تصانیف فارسی میں تحریر کیں مگر ان کا اردو زبان و ادب پر گہرا اثرپڑا ۔ خان آرزو کی شخصیت ،کام اور زبان و ادب پر ان کے اثرات کااندازہ ان کی تصانیف کےتنوع سے بخوبی لگایا جاسکتاہے جن میں ان کے دواوین ، مثنویات، لغت، شرح ، نقد و نظر ، تذکرہ اور متفر قات شامل ہیں۔
آرزو،شاعروں کے شاعر اور ناقدوں کے ناقد تھے۔ انھوں نے لسانی، علمی و ادبی اور شعری مسائل پر ناقدانہ انداز سے رجحانات وخیالات کا احاطہ اس طرح کیا کہ اس دور کے شعرا ٕ اور ادبا ٕ نے ان سے اکتساب کیا۔
آرزو نے اردو زبان کی نہ صرف لسانی تحقیق کی بنیاد رکھی بلکہ فارسی اور اردو الفاظ کے تقابلی مطالعے کی بھی بنیاد رکھی۔ علاوہ ازیں سنسکرت اور فارسی کا بھی تقابلی مطالعہ کیا ۔ لفظ ” اردو“ زبانِ اردو کےمعنی میں آرزو نےسب سے پہلے نوادر الالفاظ میں کئی جگہ استعمال کیا ہے۔ لغت نویسی میں بھی نہایت مختصر اور واضح انداز سے الفاظ کے معانی درج کیے ہیں۔
1. خان آرزو اپنے دور کی ایک نابغہ ٕ روزگار علمی و ادبی شخصیت کے طور جانےجاتے تھے ۔وہ خوش طبع ، لطیفہ گو اور بزلہ سنج تھے۔ان خوبیوں نے آرزو کی شخصیت کو چار چاند لگا دیے۔
اردو میں خان آرزو کا کوئی دیوان نہیں ملتامگر جتنا لکھا ہے ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہےکہ فارسی کی طرح ان کے اردو کلام میں بھی سنجیدگی اور ٹھہراؤ پایا جاتا ہے۔روز مرہ اور محاورہ کے برجستہ استعمال نے ان کے شعر کا حسن بڑھا دیا ہے۔ان کی تراکیب وبندش اور مضامین پر فارسی کا اثر گہرا ہے آرزو کی اردو شاعری میں بنسبت فارسی کے دیگر شعر ا ٕ کے جنھوں نے اردو میں شعر کہے زیادہ پختگی پائی جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ آرزو کا کلام اردو شاعری کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک تاریخی دستاویز ہے۔
آرزو نے شاعروں کی دو نسلوں کی نہ صرف آبیاری کی بلکہ فکرو فن کی سطح پر ان کی رہنمائی بھی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسل کے لکھنے والے آرزو کے مقرر کردہ راہ پر چل نکلے۔ فنِ شاعری میں آرزو کی رائے کو حدیثِ قدسی کا دجہ حاصل تھا۔ شاعر و ادیب اپنی نگارشات کی اصلاح ان سے کرواتے تھے۔
شعروں کی تعریف تو پہلے بھی کی جاتی تھی مگر ان کی پرکھ اور معائب و محاسن کا تجزیہ کہیں نہیں ملتا تھا۔ خان آرزو کی نگارشات میں اس ادبی ارتقا کے آثار نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔وہ اپنے وقت کے قد آور عالم اور ادیب تھے۔ ان کی ہمہ جہت ادبی خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے کتاب کی کئی جلدیں لکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ آرزو کے علمی و ادبی کارناموں کےپیشِ نظر میر حسن دہلوی کہتے ہیں کہ:
” امیر خسرو کے بعد سراج الدین علی خان آرزو جیسا جامع اور صاحبِ کمال شخص ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا۔“
نمونہ ٕ کلام
آتا ہے صبح اٹھ کر تیری برابری کو
کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو
دل مارنے کا نسخہ پہنچا ہے عاشقوں تک
کیا کوئی جانتا ہے اس کیمیا گری کو
اس تند خو صنم سے ملنے لگا ہوں جب سے
ہر کوئی جانتا ہے میری دلاوری کو
اپنی فسوں گری سے اب ہم تو ہار بیٹھے
باد صبا یہ کہنا اس دل ربا پری کو
اب خواب میں ہم اس کی صورت کو ہیں ترستے
اے آرزو ہوا کیا بختوں کی یاوری کو
………
فلک نے رنج تیر آہ سے میرے زبس کھینچا
لبوں تک دل سے شب نالے کو میں نے نیمرس کھینچا
مرے شوخ خراباتی کی کیفیت نہ کچھ پوچھو
بہار حسن کو دی آب اس نے جب چرس کھینچا
رہا جوش بہار اس فصل گر یوں ہی تو بلبل نے چمن میں دست گلچیں سے عجب رنج اس برس کھینچا
کہا یوں صاحب محمل نے سن کر سوز مجنوں کا
تکلف کیا جو نالہ بے اثر مثل جرس کھینچا
نزاکت رشتہ الفت کی دیکھو سانس دشمن کی
خبردار آرزوؔ ٹک گرم کر تار نفس کھینچا
………
رات بسروانے کی الفت سنی روتے روتے
شمع نے جان دیا صبح کے ہوتے ہوتے
داغ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل
ہاتھ بھی دکھ گئے دامن ترا دھوتے دھوتے
کس پری رُو سے ہوئی شب کو مری چشم دوچار
کہ میں دیوانہ اٹھا خواب میں روتے روتے
غیر لیوے ہے صنم مفت ترے خط کی بہار
ہم یونہی اشک کے دانے ر ہے بوتے بوتے
………
عبث دل بے کسی پہ اپنی توں ہر وقت روتا ہے
نہ کر غم اے دوانے عشق میں ایسا ہی ہوتا ہے
………
جان تجھ پر کچھ اعتماد نہیں
زندگانی کا کیا بھروسا ہے
………
مئے خانہ بیِچ جاکر شیشے تمام توڑے
زاہد نے آج دل کے سارے پھپھولے پھوڑے
………
رکھے سیپارہ ٕ دل کھول آگے عندلیبوں کے
چمن میں آج گویا پھول ہیں تیرے شہیدوں کے
………
فغاں مجھ مست پھر خندہ ٕ قلقل نہ ہو وے گا
مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا
………
ہرگز نظر نہ آیا ہم کو سجن ہمارا
گویا کہ تھا چھلاوا وہ من ہرن ہمارا
تیرے دہن کے آگے دم مارنا غلط ہے
غنچے نے گانٹھ باندھا آخر سخن ہمارا
دریا غرق میں ڈوبا تجھ سیم تن کے آگے
موتی نے کان پکڑے تیرے سخن کے آگے
تصانیف :
خیابان ( شرحیں): گلستانِ سعدی ، شگوفہ زار ، سکندر نامہ ، قصائد عرفی
علمِ بیان: عطیہ کبریٰ
علمِ معانی: موہبت عظمیٰ
تنقید: تنبیہ العارفین ، سراج منیر ، دادِ سخن
تذکرہ: مجمع النفائس
مجموعہ ٕ خطوط: پیامِ شوق
موسم: گلزارِ خیال
درصفت حوض و فوارہ: آبروۓ سخن
مثنویات: شورِ عشق، جوش و خروش ، مہر وماہ، عالمِ آب
لغات: سراج اللغات ، چراغِ ہدایت
علمِ لغت: نوادرالالفاظ ، مثمر
حوالہ جات
تاریخ اردو ادب جلد دوم : از جمیل جالبی تاریخِ ادب اردو: از نور الحسن نقوی
اردو ادب کی مختصر تاریخ: از ڈاکٹر سلیم اختر
آبِ حیات : از محمد حسین آزاد
خان آرزو ۔۔۔ایک مطالعہ : مرتبہ از شاہد ماہلی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ