اردوئے معلیٰ

صد امتنان و فضلِ خدائے کریم ہے

صد امتنان و فضلِ خدائے کریم ہے

میری زباں پہ مدحِ رسولِ کریم ہے

 

وہ خوبرو ہے صاحبِ خلقِ عظیم ہے

فطرت میں ہے سلیم، طبیعت حلیم ہے

 

اس بات پر گواہ خدائے علیم ہے

مومن کے واسطے وہ رؤف و رحیم ہے

 

نازل ہوئی جو ان پہ کتابِ حکیم ہے

حکمت کے موتیوں کا خزانہ عظیم ہے

 

عرشِ عظیم جو کہ خدا کی حریم ہے

پہنچا وہاں پہ بھی وہ نبی کریم ہے

 

ان گیسوؤں کی لائی اڑا کر شمیم ہے

رقصاں اسی لئے تو چمن میں نسیم ہے

 

دیکھیں اگر شرف تو وہ ہے سرورِ جہاں

سادہ مزاجیاں یہ کہ اوڑھے گلیم ہے

 

ختم الرسل ہے ہادی برحق ہے مصطفیٰ

دنیا کو رہنمائے رہِ مستقیم ہے

 

موتی تمام عمر لٹائے گراں بہا

با ایں صفت کہ آپ وہ دُرِّ یتیم ہے

 

اسرا کے واقعہ میں ہے سوز و گدازِ عشق

اک حادثہ سا قصۂ طور و کلیم ہے

 

انگشتِ دستِ پاک کا اعجاز مرحبا

مہتابِ زر نگار فلک پر دونیم ہے

 

امت کو اپنی چھوڑ کے جانے کا وہ نہیں

آرام گاہِ ناز میں اب تک مقیم ہے

 

دیکھے نظرؔ بھی روضۂ انور کو اے خدا

یہ اک دعائے خاص بہ قلبِ صمیم ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ