اردوئے معلیٰ

فیکون

فقط خلا تھا
نہیں ، خلا بھی کہیں نہیں تھا
عدم کدے میں نہ تھے زمان و مکاں کہیں بھی
عدم کدہ بھی کہیں نہیں تھا
نہ وقت تھا اور نہ رنگ و بُو تھے
نہ تخت و بالا نہ چار سُو تھے
وجود معدوم ، ہست کا ہر نشاں ندارد
نہ روح کی لَے ، نہ سانس کی دُھن
نہ جاں کی آہٹ ، نہ دل کی سُن گُن
!پھر اک آواز گُونج اُٹھی ، کُن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ