قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی

قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی

میں شان دیکھ پاؤں رسالت مآب کی!

 

ہاں میں بھی سر جھکائے کھڑا تھا حضورِ شاہ !

لگتا ہے یوں کہ جیسے یہ باتیں ہوں خواب کی!

 

خوں رنگ ہو گئی ہے حضوری کی آرزو!

شاید اسے نصیب ہو صورت گلاب کی!

 

ایماں کے ساتھ جس نے عمل سے کیا گریز

اس نے تو اپنی آپ ہی مٹی خراب کی

 

اُن کا سحابِ لطف برستا ہے ہر طرف

رحمت ہے کیسی عام، رسالت مآب کی!

 

مجھ پر یہ لطف کم تو نہیں ہے کہ ہجر میں

کرتا ہوں نذر شعرِ عقیدت، جناب  کی!

 

اے شافعِ اُمم ! ہے تمنائے عاصیاں!

نوبت کبھی نہ آئے، سوال و جواب کی!

 

ہر فرد سیرتِ شہ والا میں ڈھل کے آئے!

تجسیم ہو تو یوں ہو نئے انقلاب کی!

 

ظاہر ہو جب شفاعتِ کبریٰ تو ہے اُمید

میں بھی رہوں نظر میں وہاں آنجناب کی!

 

اے کاش اہلِ بزم سبھی یہ صدا سنیں!

’’اللہ نے تمہاری دعا مستجاب کی!‘‘

 

پہنچیں حضورِ شافعِ محشر سب اُمتی

حبل المتین تھامے ہوئے الکتاب کی!

 

ہوں گے جو سجدہ ریز وہاں سیدالانام

رحمت مآب ہو گی، تجلی عتاب کی!

 

صد شکر شعر گوئی کے ہنگام بھی عزیزؔ

دل نے صراطِ نعتِ نبی انتخاب کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ