اردوئے معلیٰ

لوحِ دل پر جو تنزیلِ مدحت ہوئی نطق مدحِ محمد کا خو گر ہوا

لوحِ دل پر جو تنزیلِ مدحت ہوئی نطق مدحِ محمد کا خو گر ہوا

حرف در حرف کرنیں چمکنے لگیں مدح لکھی تو دیواں معطر ہوا

 

نور سے رب نے اپنے بنایا جنہیں، وجہِ تخلیقِ کونین کہیئے انہیں

وہ ہیں ممدوحِ رب یعنی خیر الورٰی وجہِ حسنِ جہاںان کا پیکر ہوا

 

گرمی و تابِ محشر میں چاروں طرف نفسی نفسی کا عالم تھا، سایہ نہ تھا

پھر وہ پردہ اٹھا میرے لب سے رواں یامحمد محمد مکرر ہوا

 

آپ کے فیضِ نوری سے اصحاب کو صدق و عدل و غنا و شجاعت ملی

کوئی صدیق و فاروق و عثماں ہوئے اور کوئی میرے آقا کا حیدر ہوا

 

وہ ہو مرحب یا عنتریا ہو عبد ِ وُد ، ضربِ حیدر سے سب پارہ پارہ ہوئے

لافتی کی سند اپنے حیدر کو دی جس کی ہیبت سے خم بابِ خیبر ہوا

 

غزوۂ بدر و کرب و بلا دیکھیے دینِ اسلام کو جب ضرورت پڑی

اک عدد تین سو تیرہ افضل ہوا دوسرا جب ہوا تو بَہتّر ہوا

 

خام نکلے عمل سارے محشر کے دن حب آل محمد سے ڈھارس بندھی

خلد کا اذن بخشا گیا ہے مجھے فیصلہ جب بدست پیمبر ہوا

 

خام و تشنہ تھا الفا ظ بے رنگ تھے اور شہرِ سخن میں خموشی ہی تھی

آج منظرؔ یہ شاداں ہے مسرور ہے جب سے اس کو عطا آپ کا در ہوا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ