اردوئے معلیٰ

محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے

محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے

وابستہ جو ہوئے ہیں ترے شہرِ نُور سے

 

جب تجھ سے مانگنی ہے شفاعت کی خیرِ کُل

تجھ کو ہی مانگ لیں گے خُدائے غفور سے

 

ہے اُن کے دستِ ناز میں میری فلاحِ جاں

خوف و خطر نہیں مجھے یومِ نشور سے

 

کرتا رہے گا عہدِ محمد کا ہی طواف

چھنتا ہُوا جو نُور ہے چشمِ عصور سے

 

اُن کے لیے ہی مجلسِ میثاق تھی بپا

کُن کا ہُوا ظہور اُنہی کے ظہور سے

 

رہتی ہے روح گنبدِ خضریٰ کے آس پاس

اِک دوستی سی ہے مری تیرے طیور سے

 

اے عازمِ مدینہ ! مبارک تجھے، مگر

لے جا سلامِ عجز دلِ ناصبور سے

 

ویسے تو آنکھ میں ہے وہ شہرِ نظر نواز

دیکھیں تو جیسے دِکھتا ہو احساس دُور سے

 

تابِ نظر نہیں تھی، مگر ہو گیا کرم

لایا ہُوں روشنی مَیں عطا کے وفور سے

 

ممکن نہیں حروف سے تخلیق نعت کی

کھِلتا ہے یہ گُلاب، کرم کی مطور سے

 

مقصودؔ اُن کی نعت کے منظر عجیب ہیں

ہیں ماورا یہ سلسلے حدِ شعور سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ