مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ

 

چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ

نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ

 

کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ

کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ

 

غلامانِ محمّد دور سے پہچانے جاتے ہیں

دل گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ

 

کہاں میں اور کہاں اُس روضۂ اقدس کا نظارہ

نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ

 

بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے

مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ

 

وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر

فراق طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے
لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں
منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں
شمع دیں کی کیسے ہو سکتی ہے مدہم روشنی
یاد
اک عالمگیر نظام
دل میں رہتے ہیں سدا میرے نبی​
ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ
درِ حبیب پہ رکھے خدا، گدا مجھ کو
دشمن ہے گلے کا ہار آقا