اردوئے معلیٰ

Search

مرے خیال نے طیبہ کا کیا طواف کیا

کمالِ حُسن نے آ کر مرا طواف کیا

 

چلا جو بزم میں دورِ ثنائے سرورِ دیں

تو خوشبوؤں نے بھی ماحول کا طواف کیا

 

اُنہیں کو ڈھونڈا نظر نے فضائے مکہ میں

میری نگاہوں نے سب سے جدا طواف کیا

 

نگاہ پڑتے ہی روضے پہ قلبِ پر غم نے

اگر طواف کیا تو بجا طواف کیا

 

ملی جو خاکِ مدینہ تو سامنے رکھ کر

عدد کی قید سے نکلا، بڑا طواف کیا

 

ترے گدا نے مسرت سے رقص کرتے ہوئے

تری عطاؤں کو دے کر دعا طواف کیا

 

ہوائے لطف نے پا کر ترے اشارے کو

بروزِ حشر مرا بے بہا طواف کیا

 

خیالِ حُسنِ نبی کا دلِ تبسم نے

کسی کو کچھ بھی بتائے بِنا طواف کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ