معروف شاعر جگن ناتھ آزادؔ کا یومِ وفات

آج معروف شاعر جگن ناتھ آزادؔ کا یومِ وفات ہے۔

جگن ناتھ نام اور آزاد تخلص تھا
05 دسمبر 1918ء کو عیسی خیل، ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے۔
تلوک چند محروم کے فرزند تھے۔
آزاد نے1939ء میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی
1944ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے اور ایم او ایل بھی اسی یونیورسٹی سے کیا۔
جگن ناتھ آزاد کی ادبی زندگی کا با ضابطہ آغاز لاہور سے ہی ہوتا ہے۔ یہاں انھیں ڈاکٹر شیخ محمد اقبال، ڈاکٹر سید عبدااللہ ،صوفی غلام مصطفی تبسم، پروفیسر علیم الدین سالک اور سید عابد علی عابد جیسے اساتذہ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔
جگن ناتھ آزاد کی پہلی شادی 11 دسمبر 1940 کو ہوئی۔ ان کی بیوی کا نام شکنتلا تھا اس بیوی سے پر ملا اور مکتا دو بیٹیاں ہیں۔ شکنتلا 1946میں بیمار ہو گئیں اور خاصے علاج کے باوجود صحت یاب نہ ہو سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔ بیوی کے موت کا آزاد پر بہت صدمہ ہوا۔ انھوں نے ’’شکنتلا‘‘، ’’ایک آرزو‘‘ اور ’’استفسار‘‘ نامی نظمیں بھی لکھیں۔
31جولائی 1948کو آزاد کی دوسری شادی وملا سے ہوئی۔ اس بیوی سے تین بچے ہیں سب سے بڑا بیٹا آدرس، چھوٹا بیٹا چندر کانت اور سب سے چھوٹی بیٹی پونم ہے۔
قیام پاکستان کے بعد ترک وطن کر کے دہلی چلے گئے اور رسالہ ’’آج کل‘‘ کے ادارہ تحریر سے منسلک ہوگئے۔
بعد ازاں 1970ءسے 1980ءتک پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے جموں یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے ڈین فیکلٹی آف اورینٹل ٹریننگ کی ذمے داریا ں بھی سنبھالیں۔کشمیر اور سری نگر یونیورسٹی نے ان کو ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔
انھوں نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ ان کی مادری زبان سرائیکی تھی، لیکن تمام زندگی اردوزبان وادب کے لیے بے لوث خدمات انجام دیتے رہے۔
ان کی چند کتابوں کے نام یہ ہیں:’بے کراں‘، ’ستاروں سے ذروں تک‘، ’وطن میں اجنبی‘ ، ’نواے پریشاں‘، ’کہکشاں‘، ’بوئے رمیدہ‘، ’جستجو‘، ’گہوارہ علم وہنر‘، ’آئینہ در آئینہ‘(شعری مجموعے) ’روبرو‘(خطوط کا مجموعہ)’نشان منزل‘(تنقیدی مضامین)’اقبال او راس کا عہد‘، ’اقبال اور مغربی مفکرین‘، ’اقبال اور کشمیر‘، ’ اقبال شخصیت اور شاعری‘، ’دہلی کی جامع مسجد‘، ’کولمبس کے دیس میں‘(سفرنامۂ امریکا وکینیڈا)۔
پروفیسر جگن ناتھ آزاد 24؍جولائی2004ء کو جموں میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دیکھا انہیں جو دیدہء حیراں لیے ہوۓ

دل رہ گیا جراحت پنہاں لیے ہوۓ

میں پھر ہوں التفات گریزاں کا منتظر

اک بار التفات گریزاں لیے ہوۓ

میں چھیڑنے لگا ہوں پھر اپنی نئی غزل

آ جاؤ پھر تبسم پنہاں لیے ہوۓ

کیا بے بسی ہے کہ ترے غم کے ساتھ ساتھ

میں اپنے دل میں ہوں غم دوراں لیے ہوۓ

فرقت تری تو ایک بہانہ تھی ورنہ دوست

دل یوں بھی ہے مرا غم پنہاں لیے یوۓ

اب قلب مضطرب میں نہیں تاب درد ہجر

اب آ بھی جاؤ درد کا درماں لیے ہوۓ

صرف ایک شرط دیدہء بینا ہے اے کلیم

ذرے بھی ہیں تجلی پنہاں لیے ہوۓ

میں نے غزل کہی ہے جگر کی زمین میں

دل ہے مرا ندامت پنہاں لیے ہوۓ

آزادؔ ذوق دید نہ ہو خام تو یہاں

ہر آئینہ ہے جلوہء جاناں لیے ہوۓ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مری چشم تماشا اب جہاں ہے

تجلی کارواں در کارواں ہے

یقیں ہے آخری منزل گماں کی

یقیں کی آخری منزل گماں ہے

وہ مجھ سے دور تو اتنے نہیں ہیں

فقط اک بے یقینی درمیاں ہے

یہ راز اہل فغاں پر فاش کر دو

خموشی بھی اک انداز فغاں ہے

یہ میر کارواں سے کوئی کہہ دے

کہ میں ہوں اور تلاش کارواں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنا بھی شور تو نہ غم سینہ چاک کر

عشق اک لطیف شعلہ ہے اس کو نہ خاک کر

اے دل حضور دوست بہ صد احترام جا

دامن کو چاک کر نہ گریباں کو چاک کر

دور غم فراق کی تاریکیوں کو دھو

جلوؤں سے ان کے اپنا جہاں تابناک کر

ڈر ہے کہیں میں شوق فراواں سے مر نہ جاؤں

اے جذبہء طرب نہ مجھے یوں ہلاک کر

آزادؔ اس سے پہلے کہ ان پر نظر پڑے

اشکوں سے دھو کے اپنی نگاہوں کو پاک کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فلسفی اور دانشور سید محمد تقی شاہ کا یوم وفات
نامور خطیب، عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کا یوم پیدائش
ممتاز شاعر صبا اکبر آبادی کا یوم ِ پیدائش
ممتاز ادیب اور شاعر شہاب دہلوی کا یوم وفات
نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم وفات
ممتاز شاعر، اور براڈ کاسٹر تابش دہلوی کا یوم وفات
معروف شاعر تلوک چند محروم کا یوم پیدائش
یوروپین شاعر جان محمد آزاد کا یوم وفات
نامور شاعر شمس العلماء امداد امام اثر کا یوم پیدائش
معروف شاعر شوکتؔ واسطی کا یوم وفات