مقدر کو مرے بخشی گئی رحمت کی تابانی

مقدر کو مرے بخشی گئی رحمت کی تابانی

مرے حصے میں آئی ہے محمد کی ثنا خوانی

 

محبت سرورِ کونین کی جس دل کا حاصل ہو

اُسے ہو گی نہ روزِ حشرکوئی بھی پریشانی

 

زمانہ تا ابد جُھکتا رہے کا ان کے قدموں میں

جنہیں حاصل ہوئی ہے والئِ بطحا کی دربانی

 

عرب کی عظمتیں اللہ اکبر آپ کے دم سے

ہوئی صحرا نشینوں کے مقدر میں جہانبانی

 

نبی کو نور کہنا تو اک ادنی سی عقیدت ہے

جہاں ذکرِ محمد ہو وہ ساری بزم نورانی

 

کبھی تو کہہ کے مستانہ ظہوریؔ کو بلائیں گے

کبھی تو کام آ جائے گی میری چاک دامانی​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ