ممتاز اردو صوفی شاعر بابا ذہینؔ شاہ تاجی کی برسی

آج ممتاز اردو صوفی شاعر، فلسفی اور اسکالر بابا ذہینؔ شاہ تاجی کی برسی ہے

معروف اردوصوفی شاعر، فلسفی،اسکالر ، 1902ء جے پور(راجستھان) میں پیدا ہوئے اور 23 جولائی 1978ء کو کراچی میں انتقال کیا ۔
چشتیہ سلسلے سے تعلق رہا۔
اصل نام : محمد طوسین ، حضرت سلطان التارکین خواجہ حمید الدین ناگوریؒ کی نسبت سے خواجہ ان کا خاندانی لقب تھا۔
ان کا پہلا تخلص طاسین تھا، بعد میں انہوں نے اپنا تخلص ذہینؔ رکھا۔ آپ کئی کتابوں اور مقالوں کے مصنف ہیں ،اردو ، فارسی ، عربی ،ہندی اور انگریزی زبانوں میں سیکڑوں غزلیں کہی ہیں ۔ابنِ عربی کی دو کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ،جو ’’فسوس الحکمۃ ‘‘ اور ’’ فتوحات المکیہ‘‘ کے عنوانات سے شایع ہوئیں ۔مزید برآں ’’الحلّاج‘‘ کی تصنیف کا اردو زبان میں ’’ کتاب الطواسین‘‘ کے عنوان سے ترجمہ بھی کیا ۔اردو اور فارسی میں ایک کتاب ’’تاج الاولیاء ‘‘ بھی تصنیف کی، تاج الاولیاء دراصل حضرت بابا تاج الدین ناگپوری کی سوانح حیات ہے۔بابا ذہین شاہ تاجی کے درس میں اُس وقت کی نابغہ روزگار شخصیات شریک ہوا کرتی تھیں ، جن میں پروفیسر اے۔ بی حلیم (جامعہ کراچی کے پہلے وائس چانسلر) ، جوش ملیح آبادی ، مولانا کوثر نیازی ، مولانا ماہر القادری ، پروفیسر کرّار حسین ، پروفیسر حسرت کاسگنجوی ، الیاس عشقی ، ڈاکٹر پروفیسر ابو الخیر کشفی ، رئیس امروہوی اور سید محمد تقی وغیرہ قابلِ تذکرہ ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سات سال کی عمر میں قرآن مجید ختم کیا۔گیارہ اور بارہ سال کی عمر میں فارسی کی معروف کتابیں پڑھیں اور پھر علام دینیہ کے طالب ہوۓ۔وہ کہتے تھے کہ کہنے والوں نے مجھے عالم فاضل، مولوی،مولانا،علامہ،ادیب شاعر اور نہ جانے کیا کیا خطابات دیۓ مگر علم کی پیاس نہ بجھنی تھی نہ بجھی۔
بمشکل نو سال کی عمر میں انہوں نے شعر کہنا شروع کیا۔ان کے والد محترم بھی شاعر تھے۔فارسی اور اردو میں بہت اچھے اشعار کہتے تھے فرآقیؔ تخلص فرماتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلمات اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظہور خلق کی سن گن سے پہلے

خدا کے پاس تھے ہم کُن سے پہلے

خدا کے علم میں آباد تھے ہم

بۓ ایجاد خود بنیاد تھے ہم

خدا کا علم تھا اپنا ٹھکانہ

ازل سے بے مکاں و بے زمانہ

یہ موجودات معلومات حق ہیں

کتاب اللہ کی آیات حق ہیں

یہ موجودات معلومات حق ہیں

یہ کُن کی صورتیں آیات حق ہیں

ارداے میں خدا کے جا گزیں تھے

نہ تھا کچھ بھی تو جو کچھ تھے ہمیں تھے

خطاب کُن کیا ہم نے سماعت

ہمارا کام ہے سمع و اطاعت

خدا نے کُن کہا تو ہو گۓ ہم

خدا نے نم کہا تو سو گۓ ہم

خدا کا فعل کُن ارشاد کرنا

ہمارا فعل کُن ایجاد کرنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلافت و نبوت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان اللہ خلق آدم علٰی صورۃ

خدا جانا گیا ، مانا گیا ، پایا گیا ہم سے

نفخت فیہ من روحی کو وہ نسبت ہے آدم سے

روا تنزیہہ نے تشبیہہ میں تکلیف فرمائی

ہوئی آدم کی صورت میں خدا کی صورت آرائی

خدا ہی روح آدم ہے خدا ہی صورت آدم

خدا کا دیکھنا ہے در حقیقت رویتِ آدم

وجودِ علمی حق صورت اعیان میں آیا

وہی اجمال ، تفصیلاً بشر کی شان میں آیا

متاعِ کنزِ مخفی آ گیا بازار ہستی میں

بشر بسجود ہوتا ہے حریم حق پرستی میں

نظر آتا ہے مسجودِ ملائک، آدمِ خاکی

قدم لیتا ہے جھک جھک کر زمیں کی اوج افلاکی

تجلیات اوصافی ، تجلیاتِ اسمائی

لۓ جھرمٹ میں آدم کو خدا کی ہر ادا آئی

نکاتِ علمِ ادریسی ہیں ذوقی شے نہ تدریسی

رموزِ علم الاسماء نہ سمجھا ذوق ابلیسی

چھپا تھا حق کے جو علمی خزانے میں نکل آیا

ھوالاول تھا حق کے جو علمی خزانے میں نکل آیا

خدا نے اپنی صورت دیکھ لی آدم کی آنکھوں سے

حقیقت نے حقیت دیکھ لی آدم کی آنکھوں سے

جو دیکھا ہی نہ جا سکتا تھا وہ دیکھا گیا دیکھو

خدا بندے کی صورت میں ہوا جلوہ نما دیکھو

معیت، اقربیت ، عینیت کی نسبتیں بخشیں

خدا نے خاک کے پتلے کو کیا کیا رفعتیں بخشیں

جمالِ حق ، حلالِ حق ، کمالِ حق، نظر آیا

صفاتِ حق سے جب آراستہ ہو کر بشر آیا

وہ آیا مظہر کامل ، وہ آیا مظہر جامع

ادھر انوار حق ساطع ، ادھر انوار حق لامع

فرشتوں مے بشر کے بھیس میں اللہ کو دیکھا

لباس بندگی میں جلوہ فرما شاہ کو دیکھا

فرشتوں کی جبینوں میں وہ سجدے جو امانت تھے

وہ سجدے کیا تھے تصدیق خلافت کی شہادت تھے

خلافت کی سند آدم کو دی مسجود فرمایا

جو اس مقبول سے الجھا اسے مردود فرمایا

فرشتوں پر سجود آدم خاکی سے رحمت ہے

آبیٰ و استکبر ابلیس پر لعنت ہی لعنت ہے

ہوا انکار آدم منتہی انکار باری پر

نہاں اسرار خاکی رہ گۓ شیطان ناری پر

نہ مانا امر جس نے اس نے آمر کو کہاں مانا

نہ جانا جس نے آدم کو ، خدا کو بھی کہاں جانا

گمان غیر مستخلف میں مستخلف میں باطل ہے

خدا کامل ہے اس کا آئینہ انسان کامل ہے

نہ اٹھا آسماں سے بار جس کا وہ خلافت ہے

امانت ہی ، خلافت ہے ، خلافت ہی امانت ہے

صفت حق سے بندہ ہو گیا حق کا نمائندہ

یہی حو کی نمائندہ امانت ہے دل زندہ

چھا ہم میں دکھایا ہم کو حق نے ، یہ خلافت ہے

چھپانا خود کو دکھلانا خدا کو ، یہ امانت ہے

کمال حق ہے ہم سب کو دکھا کر آپ چھپ جانا

کمال بندگی رب کو دکھا کر آپ چھپ جانا

نبوت اصل میں ہے کافرمائی خلافت کی

نبوت اصل میں ہے علت غائی خلافت کی

رسولوں کی رسالت اور نبیوں کی نبوت سے

وہی مقصود ہے ، مقصود ہے جو خلافت سے

زمیں پر آسمانی رھمنائی عام ہوتی ہے

بشر کی گفتگو ، اللہ کا پیغام ہوتی ہے

خدا کے نام کی نشر و اشاعت کرنے والے ہیں

یہ وہ معصوم ہیں جو سب کی خدمت کرنے والے ہیں

خدا کے اسم ھادی کی تجلی ان کے دم سے ہے

خدا کا دین ، دنیا میں انہی کے دم قدم سے ہے

آبیٰ واستکبر و کان من الکافرین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چشمِ میگوں جامِ محبت

وہ خاص کیفِ عام محبت

بدنام ہونا ، نامِ محبت

ناکامیاں ہیں کامِ محبت

دوشِ ہوا پر گیسوئے رقصاں

ذوقِ اسیری دامِ محبت

زنجیرِ پائے موجِ صبا ہے

خوشبوئے گیسو دامِ محبت

اپنی محبت مقصود اپنا

ناکام ہیں ناکامِ محبت

کیا پیارے پیارے نام ہیں دل کے

طورِ تجلّی ، بامِ محبت

رہن ِ محبت اسبابِ ہستی

نقدِ دل و جاں دامِ محبت

وہ رُوئے رنگیں و ہ زلفِ شبگوں

صبحِ محبت ، شامِ محبت

معنیٰ ازل کے مطلب ابد کا

صبحِ محبت ، شامِ محبت

مسلک، ذہین ِ تاجی ہمارا

تعظیمِ دل، اکرامِ محبت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا

شیشہ پیمانہ کیا بننا، مے بن جا، مےخانہ بن جا

مے بن کر، مےخانہ بن کر، مستی کا افسانہ بن جا

مستی کا افسانہ بن کر، ہستی سے بیگانہ بن جا

ہستی سے بیگانہ ہونا، مستی کا افسانہ بننا

اس ہونے سے، اس بننے سے، اچھا ہے دیوانہ بن جا

دیوانہ بن جانے سے بھی، دیوانہ ہونا اچھا ہے

دیوانہ ہونے سے اچھا، خاکِ درِ جانانہ بن جا

خاکِ درِ جاناناں کیا ہے، اہلِ دل کی آنکھ کا سُرمہ

شمع کے دل کی ٹھنڈک بن جا، نُورِ دلِ پروانہ بن جا

سیکھ ذہین کے دل سے جلنا، کاہے کو ہر شمع پہ جلنا

اپنی آگ میں خود جل جائے، تو ایسا پروانہ بن جا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فلسفی اور دانشور سید محمد تقی شاہ کا یوم وفات
نامور خطیب، عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کا یوم پیدائش
ممتاز شاعر صبا اکبر آبادی کا یوم ِ پیدائش
ممتاز ادیب اور شاعر شہاب دہلوی کا یوم وفات
نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم وفات
ممتاز شاعر، اور براڈ کاسٹر تابش دہلوی کا یوم وفات
معروف شاعر تلوک چند محروم کا یوم پیدائش
یوروپین شاعر جان محمد آزاد کا یوم وفات
نامور شاعر شمس العلماء امداد امام اثر کا یوم پیدائش
معروف شاعر شوکتؔ واسطی کا یوم وفات