اردوئے معلیٰ

نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے

نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے

میں رات دن پڑھ رہا ہوں اس کو جو زندگی کے نصاب میں ہے

 

نفاذ حق میں یہ دیر کیسی حضور کی اتباع کر لو

نظام دیں کا تو ذکر ساری خدا کی اپنی کتاب میں ہے

 

وہ نور جس سے ہوا منور تمام عالم کا گوشہ گوشہ

اسی سے ہے آفتاب روشن وہ مصحف ماہتاب میں ہے

 

حضور کی زلف عنبریں سے مہک رہا ہے تمام عالم

نہ ہے چمبیلی میں ایسی نکہت نا ایسی خوشبو گلاب میں ہے

 

ملی جسے خاک پائے احمد چمک گئی سمجھو اس کی قسمت

بھلا ہو کیوں اس کو خوف محشر جو آپ کے انتخاب میں ہے

 

گنہ کی گٹھڑی لدی ہے سر پر لرز رہا ہے بدن بھی تھر تھر

نبی کا صدقہ، خدا کرم کر، یہ تیرا بندہ عذاب میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ