نعت میں کیسے کہوں اُن کی رضا سے پہلے​

نعت میں کیسے کہوں اُن کی رضا سے پہلے​

میرے ماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے​

 

​نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیں​

جلوئہ صاحب لولاک لما سے پہلے​

 

​اُن کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحر​

بھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سے پہلے​

 

​اب یہ عالم ہے کہ دامن کا سنبھلنا ہے محال​

کچھ بھی دامن میں نہ تھا ان کی عطا سے پہلے​

 

​تم نہیں جانتے شاید میرے آقا کا مزاج​

اُن کے قدموں سے لپٹ جاؤ سزا سے پہلے​

 

​چشم رحمت سے ملا اشک ندامت کا جواب​

مشکل آسان ہوئی قصد دعا سے پہلے​

 

​میری آنکھیں میرا رستہ جو نہ روکیں اقبال​

میں مدینے میں ملوں راہ نما سے پہلے​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
جہاں کی خاک کا ہر ذرہ اک نگینہ ہے
دیارِ احمد مختار چل کے دیکھتے ہیں
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا