نومبر چل رہا

نومبر چل رہا ہے
خنکی پیہم بڑھ رہی ہے
ساتھ ہی اسکا رویہ سرد ہوتا جارہا ہے اور مجھ کو خدشہ ہے
ان برف جیسے موسموں کی ٹھنڈمیں
میری سسکتی چاہتوں کا
انت ہو جائے گا۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زخم ہائے جاں لئے مرہموں کی آس میں
میں کہاں جائوں تیرے در کے سوا
آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر
شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا
کر کے مولا سے دعائیں ایک گڑیا لی گئی
اگر تُو کہے تو
جنگِ ستمبر 1965ء
ادھ کھلی گرہ
دسمبر جا رہا ہے
ترے در کی ہم کو گدائی ملی ہے