اردوئے معلیٰ

Search

نہ سوچا تھا کہ یوں دیوار ہو گا

یہ رستہ اس قدر دشوار ہو گا

 

خبر کیا تھی کہ سایہ چھین کر وہ

شجر بھی صورتِ دیوار ہو گا

 

لبِ دریائے وحشت دل کھڑا ہے

مری انگلی پکڑ کر پار ہو گا

 

ابھرتی رہ تمنائے محبت

وہ منظر اب کہاں بیدار ہو گا

 

میں جب آزاد ہوں گا اس گماں سے

یقیناً تو مرا پندار ہو گا

 

کہانی بڑھ رہی ہے اس طرف اب

جہاں اپنا نیا کردار ہو گا

 

خرابی ہے یہی خواہش میں اپنی

اگر نکلی نہیں ، آزار ہو گا

 

بتانا تھا مجھے بِکنے سے پہلے

ترا آخر کوئی میعار ہو گا

 

مری تو ساری دنیا ایک دل ہے

ترا تو دل بھی دنیا دار ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ