نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو

نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو

اک عشق ایسا کہ جو فسانوں سے مختلف ہو

 

زباں پکڑ کر جو دل کو بدلے ہو میری تسبیح

میں ایک دانہ جو سارے دانوں سے مختلف ہو

 

وہی پرندہ نہ اڑنے پایا جو چاہتا تھا

اڑان ایسی جو سب اڑانوں سے مختلف ہو

 

دکھاؤں سب کو اگر تو چھوڑے نشان ایسا

مرے بدن پر جو سب نشانوں سے مختلف ہو

 

میں ایسی ملکہ کا ہوں محافظ جو چاہتی تھی

جوان ایسا جو سب جوانوں سے مختلف ہو

 

ہمارے گھر میں ہوں خواب گاہیں ہی خواب گاہیں

بناؤ نقشہ جو سب مکانوں سے مختلف ہو

 

تھی ماں کی لوری بھی فجر کی اک اذان جیسی

اذان بھی وہ جو سب اذانوں سے مختلف ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ