وجہ فروغِ چہرہ خوباں تمہی تو ہو

آپ و ہوائے فصل بہاراں تمہی تو ہو

تازہ ہے جس سے روئے نگاراں تمہی تو ہو

پُرخم ہے جس سے زلفِ عروساں تمہی تو ہو

صحرا ہیں جس سے رشکِ گلستان تمہی تو ہو

ذرّے ہیں جس سے خلد بداماں تمہی تو ہو

روشن سبھی چراغ تمہارے چراغ سے

کہتے ہیں جس کو بوذر و سلماں تمہی تو ہو

تسکیں سے آشنا ہے جہاں ذوقِ انتخاب

وہ خسروِ ولایتِ خوباں تمہی تو ہو

آزادہ خزاں ہے جہاں نخلِ زندگی

اے جانِ آرزو وہ گلستان تمہی تو ہو

جس کی جھلک سے وادیِ ایمن بھڑک اٹھی

اس نورِ برق پاش کے طوفاں تمہی توہو

جلووں سے جس کے زندگی گرمِ سفر ہوئی

اس صبح نور بہار کے ساماں تمہی تو ہو

کیوں کر تمہاری بات نہ ہو حرفِ آخریں

مضمونِ کائنات کے عنواں تمہی تو ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]