اردوئے معلیٰ

وہ کیسا سماں ہوگا کیسی وہ گھڑی ہوگی

جب پہلی نظر اُن کے روضے پہ پڑی ہوگی

 

یہ کوچہ جاناں ہے، آہستہ قدم رکھنا

ہرجا پہ ملائک کی بارات کھڑی ہوگی

 

کیا سامنے جا کے ہم حال اپنا سنائیں گے

سرکار کا در ہوگا، اشکوں کی جھڑی ہوگی

 

کچھ ہاتھ نہ آئے گا، آقا سے جدا رہ کر

سرکار کی نسبت سے توقیر بڑی ہوگی

 

وہ شیشہء دل غم سے میلا نہ کبھی ہوگا

تصویر مدینے کی جس دل میں جَڑی ہوگی

 

ہوجائے جو وابستہ سرکار کے قدموں سے

ہر چیز زمانے کی قدموں میں پڑی ہوگی

 

چارہ نہ کوئی کرنا ایک نعت سنا دینا

ناچیز ظہوری کی جب سانس اڑی ہوگی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ