پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن

تیرہ تیرہ ہوگیا ہے زندگی کا پیرہن

جھکنے لگتی ہیں جبیں پھر آپ کی دہلیز پر

جب پہن لیتا ہے انساں آگہی کا پیرہن

روزِ محشر سامنا کیسے کریں گے آپ کا

فخر کرتے ہیں پہن کر جو بدی کا پیرہن

آپ کے آتے ہی سب گردِ کدورت دھل گئی

ہو گیا شفاف روحِ آدمی کا پیرہن

کیسے ان کو آئے گا نورِ مجسّم کا یقیں

لوگ جب پہنے رہیں گے تیرگی کا پیرہن

مدحتِ سرکار میں جامی رقم کرتے رہو

باعثِ توقیر ہوگا شاعری کا پیرہن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]