اردوئے معلیٰ

پیکر دل رُبا بن کے آیا ، روح ارض و سما بن کے آیا

پیکر دل رُبا بن کے آیا ، روح ارض و سما بن کے آیا

سب رسول خدا بن کے آئے ، وہ حبیب خدا بن کے آیا

 

حضرت آمنہ کا دُلارا ، وہ حلیمہ کی آنکھوں کا تارا

وہ شکستہ دلوں کا سہارا ، بے کسوں کی دعا بن کے آیا

 

تاجداروں نے دی ہے سلامی ، بادشاہوں نے کی ہے غلامی

بے مثال اس کا اسم گرامی ، مصطفٰے مجتبٰی بن کے آیا

 

دست قدرت نے ایسا سجایا ، حسن تخلیق کو رشک آیا

جس کا پایہ کسی نے نہ پایا ، وہ خدا کی رضا بن کے آیا

 

وہ نبی رحمت عالمیں ہے ، جو بھی ہے اس کے زیر نگیں ہے

ایسا مختار دیکھا نہیں ہے ، جیسا خیر الوریٰ بن کے آیا

 

مسند ناز عرش بریں ہے ، بوریا جس کا فرش زمیں ہے

در کا دربان روح الامیں ہے ، سرور انبیاء بن کے آیا

 

کیا ظہوری لکھے شان اس کی ، مدح کرتا ہے قرآن اس کی

نعت پڑھتا ہے حسّان اس کی ، جو مرا راہ نما بن کے آیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ