اردوئے معلیٰ

چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی

 

چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی

شاہ کے اعزاز میں ہر شے کی پیدائش ہوئی

 

بس گئیں دل میں امامِ انبیاء کی الفتیں

دور میرے دل سے حبِ زر کی آلائش ہوئی

 

پھول، خوشبو، رنگ، موسم، چاند، تارے، رات، دن

تیری خاطر دو جہاں کی خوب زیبائش ہوئی

 

تیرا صدقہ بانٹتا ہے خالقِ ارض و سماء

تیرے صدقے میں ہمیں حاصل ہر آسائش ہوئی

 

پوری کر دی خالقِ کونین نے یکبارگی

حاصلِ کون و مکاں کی جو بھی فرمائش ہوئی

 

کر محبت آل سے اصحاب سے قرآن سے

شاہِ بحر و بر کی جانب سے یہ فہمائش ہوئی

 

جب کہا صلِ علیٰ اشفاقؔ ہم نے جھوم کر

باغِ جنت کی بہت ہی خوب افزائش ہوئی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ