اردوئے معلیٰ

چشم و چراغ عالم امکاں کی بات کر

 

چشم و چراغ عالم امکاں کی بات کر

نور نگاہ دیدہ یزداں کی بات کر

 

صبح ازل کے نیر تاباں کی بات کر

شام ابد کی شمع فروزاں کی بات کر

 

قلب تپان و دیدہ گریاں کی بات کر

یعنی نبی کی دید کے ساماں کی بات کر

 

دامن ہو گرد گرد، گریباں ہو تار تار

یوں اشتیاق کوچہ جاناں کی بات کر

 

ممکن ہے ان کی ناقہ رحمت کا ہو گزر

صحرا لغات میں دل ویراں کی بات کر

 

ہو گا اسی سے معتدل آخر مزاج دہر

خلق عظیم صاحب قرآں کی بات کر

 

ہندہ سے ان کے لطف کریمی کا ذکر سن

وحشی سے ان کے عفو فراواں کی بات کر

 

جس کے لیے خزاں نہیں پژ مردگی نہیں

اے عندلیب! اس گل خنداں کی بات کر

 

افلاک جس پہ دیدہ حیراں ہیں اب تلک

اسریٰ کے اس مسافر ذیشاں کی بات کر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ