کبھی ہو یہ بھی کہ میں بھی مدینہ دیکھ سکوں

 

کبھی ہو یہ بھی کہ میں بھی مدینہ دیکھ سکوں

ابھی تو صرف مری گفتگو میں رہتا ہے

کتابِ زیست میں اے کاش لکھ سکوں میں کبھی

اُنہی ﷺ کا رنگِ اطاعت لہو میں رہتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے
بسایا میں نے دل میں مصطفیٰؐ ہے
یہ لُطف و کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے
ہے مجھے عشق حضورؐ آپ سے پیار آپؐ سے ہے
فکرِ سرکارؐ وجہِ راحت ہے
مجھے سرکارؐ سے وابستگی دے
ہے مخلوقات پہ احسان اُنؐ کا
آسماں آسماں قدم اُس کے
’’عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طُرفہ دھوم دھام‘‘
’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘