اردوئے معلیٰ

کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی

کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی

ہے طنز مگر عشق کو احباب کی ”واہ“ بھی

 

اشعار مرے داخلی منظر کی جھلک ہیں

یہ عین سعادت بھی ہوئے اور گناہ بھی

 

لگ جائے کہیں میری نظر ہی نہ مجھی کو

بھرتی ہے تخیل کی پری ناز سے آہ بھی

 

گلشن ہوں تو میں رشکِ خیابانِ ارم ہوں

صحرا ہوں تو بے انت ہوں بے آب و گیاہ بھی

 

تا عمر کہ وحشت رہی اعجاز کی منکر

تا عمر رہا عجز مگر چشم براہ بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ