اردوئے معلیٰ

Search

 

کس منہ سے شکر کیجیے پروردگار کا

عاصی بھی ہوں تو شافع روزِ شمار کا

 

گیسو کا ذکر ہے تو کبھی روئے یار کا

یہ مشغلہ ہے اب مرا لیل و نہار کا

 

چلنے لگی نسیمِ سحر خلد میں ادھر

دامن اِدھر بلا جو شہِ ذی وقار کا

 

دامن پکڑ کے رحمتِ حق کا مچل گیا

اللہ رے حوصلہ دل عصیاں شعار کا

 

خوشبو اڑا کے باغِ دیارِ رسول سے

ہے عرش پہ دماغ، نسیمِ بہار کا

 

سرُمہ نہیں ہے آنکھوں میں غلمان وحور کی

اڑتا ہوا غبار ہے ان کے دیار کا

 

ناکارہ ہے خلیل، تو یارب نہ لے حساب

آساں ہے بخشنا تجھے ناکارہ کار کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ